فرقہ واریت کے خاتمے  کے  لیے پالیس

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حزب التحريرولایہ پاکستان فرقہ واریت کے خاتمے  کے لیے پالیسی کوشائع کررہی ہے،جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ خلافت کس طرح اختلاف رائے کے احترام کی فضاءx قائم کرے گی اورفرقہ واریت  کا     خاتمہ کرے گی۔

 

الف) مقدمہ: جمہوریت معاشروں میں تفریق،گروہ بندی اورتصادم  کی سیاست  کوپروان چڑھاتی ہے ، جمہوری معاشروں میں فرقہ واریت انہی اختلافات کاشاخسانہ ہے:

 

جمہوریت ایسانظام حکومت ہے جوریاست کے وسائل اور توجہ  کو معاشرے میں موجود گروہوں کی سیاسی قوت  کے  مطابق تقسیم  کرتا ہے ۔ وہ گروہ جو زیادہ سیاسی قوت اور وزن رکھتے ہیں وہ ملک میں ہونے والی قانون سازی پر  زیادہ اثرورسوخ   رکھتے ہیں اور  نتیجتاً اپنے لیے ریاست سے زیادہ وسائل  اور مراعات حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔لہذا جمہوری ریاست میں صرف ان شہریوں کے مفادات اور حقوق کی ضمانت فراہم کی جاتی ہے،جو ریاست پر اس قدر دباو   ڈال سکیں کہ ریاست ان کے مطالبات ماننے پرمجبورہوجائے۔،یوں نمائندہ جمہوریت کاتصور معاشرے میں پائے جانے والے مختلف  گروہوں میں عدم تحفظ کااحساس اُجاگرکرتاہے کہ وہ کس طرح ریاست کی توجہ حاصل کر کے اپنے مطالبات منوا سکیں۔

 

جمہوری معاشرے میں مقامی سطح پرہم سیاسی قائدین کودیکھتے ہیں جواکثراوقات اپنے لیے اس بات کو فائدہ مند بلکہ ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ  معاشرے کے اندر تقسیم کی حوصلہ افزائی کریں اورجس گروہ کی وہ نمائندگی کر رہے ہیں اس کی مخصوص نسلی یاسیاسی شناخت کواجاگرکریں ،تاکہ وہ    اپنے گروہ کی مخصوص شناخت برقرار رکھ کر اپنے لئے سیاسی وزن پیداکرسکیں اور ریاست کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا  سکیں۔   یوں جمہوری نظام  حکومت معاشرے میں تقسیم اور گروہ بندی  کی حوصلہ افزائی کرتاہے ،جہاں  مختلف گروہ  ریاست کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے دست و گریباں رہتے ہیں۔  یہ صورتحال ہراس ملک کےاندرواضح دکھائی دیتی ہے جہاں جمہوریت نافذ  ہے اور جہاں مختلف گروہ پائے جاتے ہیں جواپنے مفادات اورحقوق  کے حصول  کیلئے ایک دوسرے سے  مقابلہ کررہے ہوتے ہیں۔

 

پاکستان میں بھی جمہوری سیاست  کواختیارکیاجاتاہےجو قومیت ،نسل اورمسلکی بنیادوں پرمختلف  گروپوں کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ، جس کے باعث ایک طرف کراچی میں مہاجر،پٹھان اورسندھی کی تفریق کی بنیاد پر  تصادم اور لڑائی کو ہوا مل رہی ہے،تودوسری جانب بلوچستان میں بلوچوں اورپاکستانی حکومت کے درمیان ایک نسلی  تنازعہ  چل رہا ہے۔  ان تنازعات کی وجہ  سے ملک عدم استحکام اورغیریقینی کی صورتحال سے دوچارہے ،جسے جب بھی چاہیں،اجنبی قوتیں بھڑکاسکتی ہیں۔

 

ب)  سیاسی اہمیت: سامراجی قوتیں فرقہ واریت کوہوادیتی ہیں:

 

ملک میں جاری  فرقہ وارنہ  تشدد کی  کاروائیوں کی حالیہ لہر کا تعلق  پاکستانی حکومت  کی غلامانہ خارجہ پالیسی  اور اس  کی افغانستان پر امریکی قبضے  کے لیے سپورٹ سے ہے۔ افغانستان  کے مسلما نوں اور پاکستان کے فاٹا کے علاقے میں موجود ان کے بھائیوں کے ہاتھوں  شکست  کے خوف نے  اور اپنے ملک میں جاری معاشی بحران نے جس نے  امریکہ کو کمزور کر دیا ہے، امریکہ کو اس امر پر مجبور کیا کہ وہ  خطے میں  جار ی امریکہ مخالف مزاحمت کو کمزور کرے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے امریکی انٹلیجنس  ایجنسیاں پاکستان کے شہری علاقوں میں بم دھماکوں اور  False Flag حملوں کی مہم چلا رہی ہیں تا کہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑوایا جا سکے اور  امریکہ کے خلاف افعانستان میں جار ی مزاحمتی تحریک کو  پاکستانی عوام کی نظروں میں بدنام کیا جا سکے۔   یہ امریکہ کے شیطانی منصوبے کا حصہ ہے کہ وہ پاکستان کی فوج اور  جنگجوں کے درمیان فتنے کی جنگ کو بھڑکائے اور اس مقصد کے لیے امریکہ  پرتشدد فرقہ وارانہ کاروائیوں  کو استعمال کر رہا ہے  تا کہ ان گروہوں کو جو امریکہ کے افغانستان پر قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں  ان کو فرقہ وارنہ گروہ  ،جو شیعہ مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں ،کے طور پر  پیش کر کے ان کو  بدنام کرے۔ یہ وہی پالیسی ہے جو امریکہ نے عراق میں استعمال کی  جہاں اس نے مسلمانوں کے درمیان  فرقہ واریت کو ہوا دی   اور فرقہ واریت کو استعمال کرتے ہوئے  امریکی قبضے کے خلاف جاری تحریک کو تقسیم اور کمزور کیا اور عراق پر اپنی گرفت مضبوط کی۔

 

امریکی غلامی کی پالیسی  پر چلتے ہوئے موجودہ حکومت اورخائن حکمران بھی مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دے رہے ہیں  تاکہ عو ام پراپنے غیرفطری اقتدار کوبرقرار رکھ سکیں۔ امریکی ایما اور حوصلہ افزائی پر جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستانی حکومت   نے، جوخطے میں اسلام کی واپسی سے خوفزدہ   تھی ،پاکستان میں فرقہ وارنہ  بنیادوں پرتنظیمیں بنانے کی حوصلہ افزائی کی،تاکہ امت  کی اسلام کی طرف لوٹنے  کی کوششوں کو روکا جا سکے۔    آج بھی پاکستانی حکومت مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت  کوبھڑکانے  کی پالیسی پر گامزن ہے تا کہ امریکہ کی اسلام کے خلاف جنگ   میں اپنی شمولیت کے لیے جواز فراہم کر سکے۔ مزید براں حکومت ا ور اس کے حواری  مسلمانو ں کے درمیان فرقہ واریت کو  اس لیے بھی ہوا دیتے ہیں تا  کہ ملک میں شریعت کے نفاذ کے بڑھتے ہوئے مطالبے کی مخالفت اور  مقابلہ کیا جا سکے  اور  پاکستان کے لیےسیکولر سول جمہوری  حکومتی ماڈل کی ترویج کی جا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف مسالک کے لیے مختلف تعلیمی نصاب قائم رکھ کر پاکستانی ریاست مسلمانوں کے درمیان تقسیم کو برقرار رکھتی ہے۔

 

ج) قانونی حکم:  اسلام تمام رعایا کے حقوق کی ضمانت دیتاہے اورمختلف گروہوں کےدرمیان اختلاف رائے  کی تعمیری طریقہ سے نگرانی اوردیکھ بھال کرتاہے۔وہ طریقہ یہ ہے:

 

ج1)شہریوں کے حقوق کی ضمانت احکام شرعیہ کے ذریعے  کی جاتی ہے ، نہ کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے سیاسی اتھارٹی تک پہنچنے  کی قابلیت  کے ذریعے۔

 

جمہوریت کے برعکس اسلام ایسے  قومی نمائندوں پریقین نہیں رکھتاجوعوام پرحکومت کرنے کیلئے قانون سازی کریں۔جمہوریت میں یہ طریقہ کارفطری طورپران جماعتوں  اورگروپوں کے ساتھ امتیازی سلوک  کوجنم دیتا ہے ، جن کے پاس ریاست کی قانون ساز  اتھارٹی پراثرانداز ہونے کیلئے مطلوبہ سیاسی اثرورسوخ موجود نہ ہو۔ اس سے معاشرے میں مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی بڑھتی  ہےاوران کے درمیان خوفناک قسم کی کشمکش شروع ہوجاتی ہے ،یوں معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کاشکارہو کر تقسیم ہوجاتاہے۔ اگر چہ خلیفہ کوانتخابات کے ذریعے چناجاتاہے ،مگرنہ توخلیفہ اورنہ ہی مجلس امت (مجلس شوریٰ) کے ارکان کے پاس قانون سازی کا اختیارہوتاہے،بلکہ خلیفہ صرف اورصرف شریعت  اور اس کے احکا مات کے ذریعے حکمرانی کاپابند ہوتاہے ۔  اسلا م گروہ بندی پر مبنی سیاست کومسترد کرتا ہے ۔ اسلامی ریاست میں شہریوں کے د رمیان ریاست کے وسائل شرعی ضوابط کے مطابق تقسیم کئے جاتے  ہیں نہ کہ معاشرے کے اندرموجود مختلف گروہوں کے سیاسی وزن کے مطابق ۔اورخلیفہ کے لئے  جائز نہیں کہ وہ نسل ،قومیت ،دین ،مسلک وغیرہ کی بنیاد پرریاست کے شہریوں کے درمیان کوئی تفریق کرے،بلکہ اس پریہ واجب ہےکہ وہ صرف احکام شرعیہ کی بنیاد پراسلامی ریاست کے شہریوں کے حقوق کی ضمانت فراہم کرے۔

 

حزب التحريرکے مقدمہ دستور کی شق (6) میں ذکرکیاگیاہے  ” ریاست کیلئے جائز نہیں کہ وہ حکومت ،عدالتی امور،لوگوں کے  زندگی کے نظم ونسق اوردیگرمسائل میں شہریوں کے درمیان تفریق وتمیز کرے،بلکہ ریاست کی ذمہ داری  ہے کہ وہ قومیت ،دین ،رنگ ونسل وغیرہ سے بالاترہوکرتمام افرادکو ایک نظرسے دیکھے۔”

 

دستور کی شق (7) میں یہ واضح کیاگیاہے کہ” ریاست ان تمام لوگوں پرجواسلامی ریاست کےشہری ہوں ،چاہے مسلمان ہوں یاغیرمسلم،حسبِ ذیل طریقے سے اسلامی شریعت کونافذ کرتی ہے :

 

1۔مسلمانوں پربغیرکسی استثناء کے تمام اسلامی احکامات لاگوہوتے ہیں۔

 

2۔غیرمسلموں کوعمومی نظام کے تحت اپنے عقائد وعبادات  کی اجازت ہوتی ہے۔

 

3۔مرتد ہونے والوں پرمرتدوں  کے احکام لاگوں کئے جاتے ہیں،ایسے لوگ جوکسی مرتد کی اولادہوں اوروہ پیدائشی غیرمسلم ہوں ، ان  کے ساتھ غیرمسلموں کاسامعاملہ کیاجاتاہے یعنی ان کی حالت پرہے کہ وہ مشرک  ہیں یااہل کتاب ۔

 

4۔  کھانے پینے اورلباس کے امورمیں غیرمسلموں کے ساتھ شرعی احکامات کی حدود میں رہتے ہوئےان کے مذاہب کے مطابق معاملہ کیاجاتاہے ۔

 

5 ۔  غیرمسلموں کے درمیان شادی بیاہ اورطلاق کے امورکوان کے مذاہب کے مطابق نمٹایاجاتاہے ،اگرمعاملہ ان کے اورمسلمانوں کے درمیان ہوتوپھراسلامی احکامات کے مطابق طے کیاجاتا ہے۔

 

6 ۔ باقی تمام شرعی احکامات اور شرعی امورمثلاً   لین دین ،سزائیں ،گواہی ،نظام حکومت ،نظام معیشت وغیرہ کو تمام رعایاپر،خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم ، ریاست برابری کی بنیاد پرنافذ کرتی ہے۔ اسی طرح معاہدین (اہل ذمہ) ،مستامنین (اسلامی ریاست کی پناہ میں آنے والے) اورہراس شخص پر جو اسلامی ریاست کے زیرسایہ رہتاہے ،ریاست ان احکامات کوناٖفذ کرتی ہے،ماسوائے سفیروں ،ایلچیوںاوراسی نوعیت کے دیگرلوگوں کے جنہیں سفارتی امان حاصل ہو۔

 

ج2)خلافت تمام مسلمانوں کی سیاسی  وحدت ہے،اور وہ مسلمانوں کے مابین وحدت کومضبوط کرے گی۔

 

ریاستِ خلافت تمام مسلمانوں کی سیاسی  وحدت ہے ،اس سےقطع نظر کہ شرعی نصوص اوراسلامی تاریخ کے حوالے  سے ان کی تشریح کیا ہے ۔ مسلمانوں کے درمیان وحدت کومضبوط  رکھنے کے لیے ریاست  خلافت، ذرائع ابلاغ اوریکساں نصاب تعلیم کے نفاذکوبروئے کار لائے گی اورمسلمانوں  کے درمیان اسلام کی صحیح فہم  کے مطابق بھائی چارے  کے ربط کا پرچار کرے گی۔ پوری ریاست میں یکساں تعلیمی نظام مسلمانوں کے درمیان وحدت اور اخوت کے ربط کو مضبوط کرے گا۔

 

مقدمہ دستور کی شق ( 103 )اس بات کی وضاحت  کرتی ہے کہ “میڈیاوہ شعبہ ہے جوریاست کی میڈیاپالیسی بناتاہے،اوراسے نافذکرتا ہےتاکہ اسلام اورمسلمانوں کے مفاد کوپوراکیاجائے۔  داخلی طورپریہ ایک قوی اورمتحداسلامی معاشرے کی تشکیل کرتاہے،جوخباثت کونکال باہر کرے اوراپنی خوشبوؤں کوبکھیرتارہے۔ اورخارجی طورپریہ اسلام کوجنگ اورامن کے دوران  اس انداز میں پیش کرتاہے جس سےاسلام کی عظمت ،اس کے عدل اوراس کی افواج کی قوت کااظہارہوتاہواورانسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں کے فساد اورظلم کوبیان کرے اوران کی افواج کی کمزوری کو آشکارا کرے۔

 

شق (177)یہ  واضح کرتی ہے کہ “منہج تعلیم ایک ہی ہوگااورریاست کے منہج تعلیم کے علاوہ کسی دوسرے منہج کی اجازت نہیں ہوگی۔ پرائیویٹ سکولوں کی اس وقت تک اجازت ہوگی جب تک کہ وہ ریاست کے تعلیمی منہج ،اس کی تعلیمی پالیسی اوراس کے مقصد کی بنیادپرقائم ہوں گے۔  یہ بھی شرط ہوگی کہ ان میں مخلوط تعلیم کی ممانعت ہوگی ،مردوزن کااختلاط معلمین اوراساتذہ دونوں کے درمیان ممنوع ہوگا۔مزید برآں یہ بھی شرط ہوگی کہ تعلیم کسی خاص کردہ دین یامذہب یارنگ ونسل کے ساتھ مخصوص نہ ہو”۔

 

د) معاشرے کی  بھلائی کی خاطراختلاف رائے کی نگرانی اوراحترام ۔

 

اسلام اختلافِ رائے کی اجازت دیتاہے،اورشرعی طورپرمعتبرنصوص سےاجتہاد کرکے احکام شرعیہ اخذکرلینےمیں اختلاف کی گنجائش کو تسلیم کرتاہے۔  بخاری اور مسلم  عمر بن العاص کی سند پر روایت  کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((اذاحکم الحاکم فاجتهد ثم اصاب فله اجران واذاحکم فاجتهد ثم اخطا فله اجر)) “جب قاضی فیصلہ  دے اور اجتہاد کرے اور وہ درست ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں ۔ اگر وہ فیصلہ کرے  اور غلطی کرے  تو اس کے لیے ایک اجر ہے ۔ “یہ حدیث بخاری اورمسلم نے روایت کی ہے ۔ مختلف مجتہدین کے درمیان شرعی نصوص میں اسی اجتہادی اختلاف کی وجہ سے فقہ اسلامی کاعظیم ذخیرہ وجود میں آیا ۔ اسی نے اسلا م  میں مختلف  قانونی مسالک کو جنم دیا۔ اسلام اجتہادی آراء میں اختلاف کی اجازت دیتاہے۔ جمہوریت کے برعکس جوقانون سازی کیلئے اکثریت پراعتماد کرتی ہے ،جس کی وجہ سے ریاست اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روارکھتی ہے ،اسلام ریاست کے قانونی انتطام کے لیے اختلاف رائے کو حل کرنے کیلئے ایک منفرد انداز اپناتا ہے ۔ اسلام نے ریاست میں قانون کے  نفاذ کے لیے  خلیفہ کوہی احکام کی تبنی کاحق دیاہےتاکہ انہیں نافذکیاجائے مگر اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے خلیفہ پر شرعی احکامات کی تبنی  کے  حوالے سے بعض پابندیاں بھی لگائیں ہیں۔ مقدمہ دستورکی شق نمبر3 میں ذکر کیا گیا ہے  کہ“خلیفہ متعین شرعی احکامات کی تبنی کرے گاجودستوراورقوانین کہلائیں گے۔ خلیفہ جب کسی حکم شرعی کی تبنی کرے توصرف یہی حکم وہ حکم شرعی ہوگاجس پرعمل کرناعوام پرفرض ہوگا، یہ اس وقت سے ہی نافذ العمل قانون بن جاتاہے جس پرعمل درآمد عوام میں سے ہرفرد پرظاہراًاورباطناً  فرض ہوگا”۔

 

قانونی  آرا کی تبنی میں جو ریاست میں نافذ کی جائیں گی خلیفہ کیلئےعبادات میں  سوائے زکوٰۃ اورجہاد کے تبنی کی اجازت نہیں نہ ہی وہ عقیدہ سے منسلک افکار میں تبنی کرے  گا۔ یہ چیز ریاست میں مختلف مسالک کے درمیان  سیاسی وحدت قائم  رکھنے میں مدد گار ثابت ہو گی۔ جیساکہ مقدمہ دستور کی شق (4) میں  ذکر کیا  گیا ہے  “خلیفہ عبادات میں سے زکوٰۃاورجہادکے سوا اور جو کچھ بھی امت کی وحدت کو قائم رکھنے کے لیے لازم ہو کے علاوہ ،کسی متعین حکم شرعی کی تبنی نہیں کرےگا۔نہ وہ اسلامی عقیدہ سے متعلقہ افکارمیں سے کسی فکرکی تبنی کرے گا”۔

 

علاوہ ازیں اسلام نے خلیفہ کی احکام شرعیہ کی تبنی کومنظم کیاہے ،کہ وہ شرعی نصوص سے  احکام شرعیہ کے استنباط کیلئے ایک طریقہ کار وضع کرے گا ، اور اس کو صر ف ان احکام کی تبنی کی اجازت ہو گی   جو اس  نے اس  طریقہ اجتہا د  کو استعمال کرتے ہو ئے اخذ کئے ہیں   جس کی وہ  پہلے تبنی  اور اعلان کر چکا ہے۔اس لئے  اگرخلیفہ کسی ایسے حکم کی تبنی کرے جوشرعی نصوص سے استنباط کرکے اخذ نہیں کیاگیا یا جس کے اخذ کرنے میں اس  طریقہ اجتہاد  کو استعمال نہیں کیا گیا جس کو خلیفہ پہلے اپنا چکا ہے اور جس کا وہ اعلان کر چکا ہے تو ایسے ہر حکم کو باطل سمجھاجائے گا۔مقدمہ دستورکی شق (37)  وضاحت کرتی ہےکہ” خلیفہ احکام شرعیہ کی تبنی میں احکام شریعت کاپابندہے،چنانچہ کسی ایسے حکم کی تبنی کرنااس کے لئے حرام ہے جس کااس نے “ادلہّ شرعیہ”سے صحیح طورپر استنباط نہ کیاہو۔ وہ اپنے تبنی کردہ احکامات اورطریقہ استنباط کابھی پابندہے ، چنانچہ اس کے لئے جائزنہیں کہ وہ کسی ایسے حکم کی تبنی کرے جس کے استنباط کاطریقہ اس کے تبنی کردہ طریقے سے متناقض ہو ۔اورنہ ہی اس کے لئے جائز ہے کہ وہ کوئی  ایساحکم دے جواس کے تبنی کردہ احکامات سے متانقض ہو۔”

 

نوٹ :مذکورہ شقوں (177،103،37،7،6،4،3)کےبارے میں قرآن وسنت سے ان کےمکمل دلائل دیکھنے کے لئے مقدمہ دستور کی طرف رجوع کیاجائے ،نیز مقدمہ دستورمیں سے ان سے متعلقہ شقوں کودیکھنے کے لئے اس لنک پرویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں:

 

http://htmediapak.page.tl/policy-matters.htm

 

 

د: خلافت  جمہوریت کی گروہ بندی اور تقسیم پر مبنی سیاست کا خاتمہ کرے گی

 

د1) جمہوریت کا خاتمہ معاشرے سے گروہ بندی اور تقسیم کی سیاست کو  ختم کر دے گا

 

د2) خلافت  نسل ، قومیت اور مذہبی  وابستگی سے قطع نظر  اپنے تمام شہریوں کے حقوق کی ضمانت دے گی اور ان کے معاملات  کو اسلام  کے  احکام کے مطابق منظم کرے گی

 

د3) خلافت تمام مسلمانوں کی سیاسی وحدت ہے۔ وہ تعلیمی نصاب اور میڈیا کے ذریعے مسلمانوں میں ہم آہنگی اور وحدت  کا پرچار کرے گی۔

 

د4) خلیفہ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ درست اجتہاد کے ذریعے جو ان  قانونی مصادر پر مبنی ہو جو اللہ  نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کیے ہیں،  قانونی آرا کی تبنی کرے اور اس کی  تبنی شدہ احکام کی اتباع تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔ خلیفہ کی احکام کی تبنی شرعی احکام  کی تابع ہے۔ خلیفہ عقائد اور عبادات میں تبنی نہیں کرے گا۔

 

د5) خلافت تمام حربی ممالک ، جن کا سربراہ      امریکہ ہے ، سے  تمام تعلقات منقطع کر لے گی اور پاکستان سے  ان ممالک کی سفارتی، فوجی اور انٹلیجنس  موجودگی کا خاتمہ کر دے گی۔ یوں امریکہ کی ہمارے علاقوں تک عدم رسائی  امریکہ کی مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلانے کی قابلیت کو ختم کر دے گا۔

 

27 رجب الثانی  1434                                                                               حزب التحرير

 

27 فروری 2014                                                                                    ولایہ پاکستان

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s